مولوی صاحب کا خواب
دیکھا مَیں نے جس کو چُھپ کے
اپنے حُجرے کی کھڑکی سے
جس کے لیے تعویذ کرائے
ندّی نالوں میں ڈلوائے
اس کے گھر میں جا پہنچا ہوں
بالکل اُس کے پاس کھڑا ہوں
گھر میں بیٹھی ہے وہ اکیلی
ماں ہے پاس، نہ کوئی سہیلی
پردہ اُس نے چھوڑ دیا ہے
بُرقعہ اُس کا دُور گِرا ہے
چہرے پر خوشبودار پسینہ
اَلّھڑ جوبن، باغی سینہ
گوری گوری چنچل باہیں
وصل کی خواہاں شوخ نگاہیں
سر پر لا کر ہاتھ حنائی
لے کر اک دل پھینک انگڑائی
کہتی ہے ’’چھوڑو قاضی واضی
میں بھی راضی، تم بھی راضی!‘‘
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں