صفحات

جمعہ، 15 دسمبر، 2017

متاعِ لوح و قلم چِھن گئی تو کیا غم ہے از فیض احمد فیض

متاعِ لوح و قلم چِھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں اُنگلیاں میں نے
زباں پہ مُہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے

1 تبصرہ:

  1. حالات کی بھیگی رُت بھی ہے، جذبات کا تیز الاؤ بھی
    میں کون سی آگ میں جَل جاؤں، اے نکتہ ورو سمجھاؤ بھی

    ہر چند، نظر نے جَھیلے ہیں، ہربار سُنہرے گھاؤ بھی
    ہم آج بھی دھوکہ کھالیں گے، تم بَھیس بدل کر آؤ بھی

    گرداب کی خونِیں حلقوں سے جب کھیل چُکی ہے ناؤ بھی
    پتوار بدلنا کیا معنیٰ، ملّاحوں کو سمجھاؤ بھی

    بے کیف جھکولے کانٹوں کو شاداب تو کیا کر پائیں گے
    جو پُھول پڑے ہیں راہوں میں، اُن پُھولوں کو مہکاؤ بھی

    ہم سے تو جفاؤں کے شِکوے تم ہنْس کر چِھین بھی سکتے ہو
    ہم دِل کو پشیماں کرلیں گے، تم پیار سے آنکھ جُھکاؤ بھی

    گُل رنگ چراغوں کی لو سے تاریک اُجالے پُھوٹ بَہے
    ہر طاق میں گھور اندھیرا ہے، اِس رنگ محل کو ڈھاؤ بھی

    جواب دیںحذف کریں