صفحات

بدھ، 21 فروری، 2018

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہات میں تیرا ہات نہیں از فیض احمد فیض

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہات میں تیرا ہات نہیں
صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں
مشکل ہیں اگر حالات وہاں ، دل بیچ آئیں جاں دے آئیں
دل والو کوچۂ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
میدانِ وفا دربار نہیں، یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں
گر بازی عشق کی بازی ہے، جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں

پیر، 19 فروری، 2018

یورپ کا بین الاقوامی قانون از راجا ظفر علی خان

یورپ کا بین الاقوامی قانون


یورپ والو! تم تو سمجھتے ہی نہیں ہو انسان ہمیں
اور جو سمجھتے بھی ہو تو شاید جانتے ہو نادان ہمیں
عدل تمھارا ہے زرِ مغرب جو ہے ملمع مشرق کو
کہہ نہ سکیں گو کچھ بھی زباں سے لیکن ہوگئے کان ہمیں
طبلِ نمود بجا کر نازاں اپنے نام پر آپ ہوئے
آپ کو لمن الملک مبارک اور علیھا فان ہمیں
آپ ہیں گورے ہم نہیں کالے آپ کو شاید ہے یہ خیال
چونکہ ہے کالی اس لیے پیاری ہو ہیں سکتی جان ہمیں
آپ کو ہم سے عار ہو لیکن ایک ہیں ہم اس فرق کے ساتھ
آپ کو اپنی جان ہے پیاری اور عزیز ایمان ہمیں
ایک طرف یہ صدمۂ مطلق تم نے مراقش چھین لیا
ایک طرف یہ خوف معلق داغ نہ دے ایران ہمیں
قدسیوں نے کل نور کی یہ گت چھیڑی چنگِ بصیرت پر
وجد میں رہ رہ کر لے آئی جس کی رسیلی تان ہمیں
ہم کو ہمارے حال پہ چھوڑے، آئے ہم اس تہذیب سے باز
کچھ نہیں یورپ سے ہمیں مطلب، چاہیے پاکستان ہمیں